مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

۲۰۲۶ سے پہلے ٹی ٹوئنٹی قوانین پڑھیں

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بیس اوور فی اننگز کا محدود فارمیٹ ہے، جس میں دو ٹیمیں عموماً گیارہ، گیارہ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادہ رنز بنانے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ بین الاقوامی مقابلوں میں ہر ٹیم کو زیادہ سے زیادہ ۱۲۰....

14 اکتوبر، 2026 8 min read
۲۰۲۶ سے پہلے ٹی ٹوئنٹی قوانین پڑھیں

۲۰۲۶ سے پہلے ٹی ٹوئنٹی قوانین پڑھیں

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بیس اوور فی اننگز کا محدود فارمیٹ ہے، جس میں دو ٹیمیں عموماً گیارہ، گیارہ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادہ رنز بنانے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ بین الاقوامی مقابلوں میں ہر ٹیم کو زیادہ سے زیادہ ۱۲۰ قانونی گیندیں ملتی ہیں، جبکہ ایک باؤلر چار اوور سے زیادہ نہیں کرا سکتا۔ پہلے چھ اوورز پاور پلے ہوتے ہیں، جن میں تیس گز کے دائرے سے باہر صرف دو فیلڈر رکھے جا سکتے ہیں۔ نو بال کے بعد اگلی گیند فری ہٹ ہوتی ہے، اور تعطل کی صورت میں میچ کا فیصلہ سپر اوور سے ہو سکتا ہے۔ آئی سی سی کے قوانین، میچ ریفری اور ٹی وی امپائر ان ضوابط کے نفاذ کی نگرانی کرتے ہیں۔ پچ رپورٹ پر ہم قوانین کے ساتھ اسکور، حکمت عملی اور پی ایس ایل کے عملی پہلو بھی دیکھتے ہیں؛ اس لیے میچ دیکھتے وقت اوور ریٹ، فیلڈنگ پابندی اور ہدف کی رفتار کو ضرور نوٹ کریں۔

سفید لباس میں امپائر روشن اسٹیڈیم کے میدان میں ٹی ٹوئنٹی میچ شروع ہونے کا اشارہ دے رہا ہے

۲۰۲۵ سے پہلے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کیسے چلتی تھی؟

۲۰۲۵ سے پہلے بھی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی بنیادی ساخت یہی تھی کہ ہر ٹیم کو زیادہ سے زیادہ ۲۰ اوورز یا ۱۲۰ قانونی گیندیں ملتی تھیں، اور دس وکٹیں گرنے پر اننگز ختم ہو جاتی تھی۔ جو ٹیم پہلے بیٹنگ کرتی، وہ ہدف مقرر کرتی؛ دوسری ٹیم ہدف عبور کر کے جیتتی یا مقررہ اوورز مکمل ہونے سے پہلے آل آؤٹ ہو جاتی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین کرکٹ کے بنیادی اصولوں کی عالمی بنیاد فراہم کرتے ہیں، لیکن ٹورنامنٹ کے ضوابط میں معمولی فرق ممکن ہے۔

میری نظر میں نئے شائقین کی سب سے عام غلطی یہ ہے کہ وہ “۲۰ اوور” کو لازماً ۱۲۰ گیندیں سمجھ لیتے ہیں۔ وائیڈ اور نو بال قانونی گیند شمار نہیں ہوتے، اس لیے ایک اوور میں چھ سے زیادہ گیندیں بھی ہو سکتی ہیں؛ البتہ اضافی رن فوراً اسکور میں شامل ہوتا ہے۔ باؤنڈری پر چار رنز اس وقت ملتے ہیں جب گیند زمین چھوتے ہوئے رسی تک پہنچے، جبکہ چھ رنز کے لیے گیند کا زمین کو چھوئے بغیر باؤنڈری کے پار جانا ضروری ہے۔ رن ریٹ کا بنیادی فارمولا رنز کو کھیلے گئے اوورز سے تقسیم کرنا ہے، مگر ہدف کا تعاقب کرتے وقت مطلوبہ رن ریٹ زیادہ اہم اشارہ بن جاتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میں روایتی آؤٹ بھی برقرار رہتے ہیں: بولڈ، کیچ، ایل بی ڈبلیو، رن آؤٹ، اسٹمپڈ، ہٹ وکٹ، ہینڈلنگ دی بال کے موجودہ قانونی متبادل، آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ اور ریٹائرڈ آؤٹ۔ فری ہٹ پر بیٹر عام طور پر بولڈ، کیچ، ایل بی ڈبلیو یا اسٹمپڈ نہیں ہو سکتا، مگر رن آؤٹ، آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ اور بعض حالات میں ہٹ وکٹ جیسے امکانات ختم نہیں ہوتے۔ اس باریک فرق کو نظر انداز کرنا خطرناک ہے، خاص طور پر آخری اوور کے دباؤ میں۔

مختصر بنیادی نکات:

  • ہر اننگز کی حد ۲۰ اوور ہے۔
  • ایک باؤلر کی زیادہ سے زیادہ حد چار اوور ہے۔
  • نو بال پر کم از کم ایک اضافی رن اور عموماً فری ہٹ ملتی ہے۔
  • وائیڈ پر اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔
  • دوسری ٹیم ہدف برابر کرے تو میچ برابر ہو سکتا ہے؛ مقابلے کے ضابطے کے مطابق سپر اوور استعمال ہوتا ہے۔

پچ رپورٹ کے تجزیوں میں ہم صرف “کس نے زیادہ چھکے مارے” نہیں دیکھتے؛ پاور پلے میں بننے والے رنز، ڈیتھ اوور کی وکٹیں اور اضافی رنز بھی الگ شمار کرتے ہیں۔ کرکٹ اسکور کارڈ سمجھنے کی مکمل رہنمائی نئے ناظر کے لیے یہی اعداد و شمار میچ کی اصل سمت واضح کرتے ہیں۔

مزید بنیادی مثالیں اور اسکورنگ کے عملی اصول دیکھنے کے لیے یہ رہنمائی مفید رہے گی۔

مزید جانیں

۲۰۲۶ میں ٹی ٹوئنٹی قوانین میں کیا بدلا؟

۲۰۲۶ میں ٹی ٹوئنٹی کے بنیادی ۲۰ اوور، پاور پلے اور چار اوور فی باؤلر کے اصول برقرار ہیں، مگر عملی نفاذ میں وقت، گیند کی حالت، متبادل کھلاڑی اور فیصلہ سازی کی وضاحت زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ کسی خاص لیگ، جیسے پاکستان سپر لیگ، میں مقامی کھیلنے کی شرائط آئی سی سی کے بنیادی قوانین سے اضافی ہو سکتی ہیں؛ اس لیے ہر میچ کے ضابطہ مقابلہ کو دیکھنا ضروری ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ “تازہ قانون” اور “تازہ ٹورنامنٹ شرط” ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔

حالیہ محدود اوورز کے طریقہ کار میں سست اوور ریٹ پر فیلڈنگ ٹیم کو سزا دی جا سکتی ہے۔ اگر مقررہ وقت تک آخری اوور شروع نہ ہو، تو اضافی فیلڈر کو دائرے کے اندر لانے یا دیگر منظور شدہ جرمانے کے ذریعے بیٹنگ ٹیم کو فائدہ مل سکتا ہے؛ جرمانے کی عین نوعیت مقابلے کے ضابطے پر منحصر ہے۔ بعض پرانے مقابلوں میں چھ رنز کا جرمانہ استعمال ہوا، مگر اسے ہر ۲۰۲۶ میچ پر خودکار طور پر لاگو سمجھنا درست نہیں۔ آئی سی سی پلیئنگ کنڈیشنز سے تازہ دستاویز کی تصدیق کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

ایک اہم عملی نکتہ “امپائر کا کال” ہے۔ ڈی آر ایس میں بال ٹریکنگ اگر ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کو صرف جزوی طور پر بدلتی ہے، تو آن فیلڈ امپائر کا اصل فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے؛ اس صورت میں ٹیم کا ریویو ضائع بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مقابلے کی موجودہ شرط یہی ہو۔ ٹی وی امپائر نو بال، رن آؤٹ، کیچ اور باؤنڈری کے معاملات میں مختلف زاویے دیکھتا ہے، مگر ہر گیند کا مکمل فیصلہ خودکار نہیں ہوتا۔

ٹی ٹوئنٹی میں وقت کی پیمائش بھی ایک غلط فہمی پیدا کرتی ہے۔ عام طور پر ایک اننگز کے لیے تقریباً ۸۵ منٹ کا ہدف رکھا جاتا ہے، جبکہ بعض پرانے ضوابط ۷۵ منٹ یا آخری اوور کے آغاز کی حد بیان کرتے تھے۔ بارش، زخمی کھلاڑی، ڈی آر ایس اور وکٹ کے درمیان غیر معمولی تاخیر کے لیے وقت میں رعایت مل سکتی ہے۔ اسی لیے میچ دیکھتے ہوئے کمنٹیٹر کا بتایا ہوا “اوور ریٹ” اور سرکاری کھیلنے کی شرط دونوں الگ الگ سمجھیں۔

ٹی وی امپائر متعدد اسکرینوں پر نو بال اور ایل بی ڈبلیو ریویو کا فیصلہ جانچ رہا ہے

یہ فرق شرط لگانے والے ناظر کے لیے بھی اہم ہے۔ “اگلا اوور وقت پر مکمل ہوگا” جیسے بازار میں قانونی شرط، اضافی فیلڈر کے نفاذ یا بارش کی مداخلت سے متاثر ہو سکتی ہے۔ پچ رپورٹ کا اصول واضح ہے: پہلے ضابطہ پڑھیں، پھر اعداد و شمار دیکھیں؛ صرف کمنٹیٹر کے مختصر جملے پر اپنی مالی پوزیشن نہ بنائیں۔

۲۰۲۶ کے لیے یاد رکھنے والی تین چیزیں:

  1. آئی سی سی کا بنیادی قانون اور لیگ کی خصوصی شرط الگ دستاویزات ہو سکتی ہیں۔
  2. فری ہٹ صرف نو بال کے بعد آتی ہے، وائیڈ کے بعد نہیں۔
  3. سست اوور ریٹ کا جرمانہ ہر مقابلے میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں شائقین اکثر “سرکاری اعلان” کو مکمل قانون سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ میچ ریفری کی رپورٹ میں استثنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

اگر آپ ضابطوں کو میچ کی حکمت عملی سے جوڑنا چاہتے ہیں تو یہ اگلا حوالہ دیکھیں۔

تفصیلات دیکھیں

کھلاڑیوں کے لیے کیا بدلا؟

کھلاڑیوں کے لیے سب سے بڑا فرق قوانین کے متن سے زیادہ فیصلے کی رفتار اور غلطی کی قیمت ہے۔ بیٹر کے پاس ۱۲۰ گیندوں کی محدود اننگز ہوتی ہے، اس لیے ایک ڈاٹ بال بھی مجموعی رن ریٹ پر اثر ڈالتی ہے؛ باؤلر کے پاس صرف چار اوور ہیں، لہٰذا ایک خراب اوور کو اگلے دس اوورز میں آسانی سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ فیلڈر کے لیے پہلے چھ اوورز کی دو فیلڈر والی پابندی اور آخری اوورز میں باؤنڈری بچانے کی ذمہ داری الگ مہارتیں مانگتی ہے۔

بیٹنگ حکمت عملی کو تین حصوں میں سمجھیں:

  • اوور ایک تا چھ: پاور پلے میں خلا تلاش کرنا، تیز سنگلز اور بلند باؤنڈری کا موقع۔
  • اوور سات تا پندرہ: وکٹ بچاتے ہوئے اسپن کے خلاف اسٹرائیک گھمانا اور مطلوبہ رن ریٹ قابو میں رکھنا۔
  • اوور سولہ تا بیس: یارکر، سلوئر گیند، باؤنسر اور باؤنڈری کے زاویوں کے خلاف مخصوص شاٹس۔

پریکٹیشنر کے طور پر ایک مفید مشاہدہ یہ ہے کہ ٹیمیں اکثر پاور پلے کے بعد رن ریٹ دیکھ کر گھبرا جاتی ہیں، حالانکہ وکٹیں محفوظ ہوں تو ۸۰ سے ۹۰ رنز کی بنیاد آخری پانچ اوورز میں تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، ۶۰ رنز کا پاور پلے اگر تین وکٹوں کے نقصان پر آئے تو ظاہری برتری دھوکا ہو سکتی ہے۔ پچ رپورٹ کے میچ جائزوں میں ہم اس لیے “رنز فی وکٹ” کو الگ نوٹ کرتے ہیں؛ یہ صرف مجموعی رن ریٹ سے زیادہ قابلِ اعتماد تصویر دے سکتا ہے۔

باؤلنگ میں چار اوور کی حد کپتان کو کم از کم پانچ قابلِ استعمال باؤلنگ آپشنز رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر چھٹا باؤلر ایک اوور میں ۱۸ رنز دے دے تو کپتان کے پاس عموماً دو راستے بچتے ہیں: بہترین باؤلر کا اضافی دباؤ یا کمزور آپشن کا خطرہ۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف آف اسپن، بائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف لیگ اسپن، اور ڈیتھ میں سلوئر یارکر جیسے مقابلہ جاتی فیصلے اسی لیے کیے جاتے ہیں۔

ایک اور کم زیر بحث پہلو فیلڈنگ پوزیشن کی قانونی حیثیت ہے۔ فیلڈر کا کیچ سے پہلے حد سے باہر ہونا، باؤنڈری رسی کو چھونا، یا غیر مجاز فیلڈنگ پوزیشن میں کھڑا ہونا صرف “خراب فیلڈنگ” نہیں بلکہ امپائر کے فیصلے اور ممکنہ اضافی رنز کا سبب بن سکتا ہے۔ کپتان کو ہر اوور سے پہلے دائرے کے باہر فیلڈرز گننے چاہییں؛ آخری گیند سے پہلے معمولی تبدیلی بھی میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔

پی ایس ایل میں بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی

اب ٹی ٹوئنٹی کے بارے میں کیا سمجھنا چاہیے؟

اب ٹی ٹوئنٹی کو صرف تیز رفتار کرکٹ کہنا ناکافی ہے؛ یہ وقت، وسائل اور خطرے کے انتظام کا کھیل ہے۔ ہر ٹیم کے پاس ۲۰ اوور، دس وکٹ اور باؤلنگ کے محدود وسائل ہوتے ہیں، مگر ان وسائل کی قیمت ہر مرحلے میں بدلتی رہتی ہے۔ پہلے چھ اوورز میں فیلڈنگ پابندی بیٹر کو موقع دیتی ہے، درمیانی اوورز اسپن اور اسٹرائیک روٹیشن کا امتحان لیتے ہیں، جبکہ سولہ سے بیس اوور تک میچ اکثر دو یا تین گیندوں کے فیصلوں میں سمٹ جاتا ہے۔

میچ پڑھنے کے لیے یہ ترتیب استعمال کریں:

  1. ٹاس کے بعد پچ کی رفتار، اوس اور باؤنڈری کی لمبائی نوٹ کریں۔
  2. پاور پلے میں رنز کے ساتھ وکٹوں کی تعداد دیکھیں۔
  3. اوور ۷ تا ۱۵ میں ڈاٹ بال فیصد اور اسپن کے خلاف اسکور چیک کریں۔
  4. آخری پانچ اوورز میں یارکر، وائیڈ، نو بال اور باؤنڈری کا تناسب دیکھیں۔
  5. ہدف کا تعاقب کرتے وقت مطلوبہ رن ریٹ کو باقی وکٹوں کے ساتھ پڑھیں۔

بین الاقوامی ضابطے کے لیے وکی پیڈیا کا ٹی ٹوئنٹی تعارف بنیادی تاریخی پس منظر دیتا ہے، لیکن اسے حتمی میچ قانون نہ سمجھیں۔ حتمی اختیار آئی سی سی، متعلقہ کرکٹ بورڈ اور مقابلے کی جاری پلیئنگ کنڈیشنز کا ہوتا ہے۔ “قانون سب کے لیے یکساں ہے” ایک درست عمومی اصول ہے، مگر ٹائم آؤٹ، ڈی آر ایس کی دستیابی، سپر اوور اور بارش سے متاثرہ میچ کے لیے تفصیلات مقابلے کے مطابق بدل سکتی ہیں۔

بیٹنگ یا میچ کے مالی بازار میں فیصلہ کرتے وقت ایک عملی احتیاط ضروری ہے: رن ریٹ کو ٹیم کی بیٹنگ گہرائی سے الگ نہ کریں۔ اگر ابتدائی چار بیٹرز میں سے تین آؤٹ ہو چکے ہوں تو ۱۰ رنز فی اوور کا موجودہ رن ریٹ مستقبل کی ضمانت نہیں؛ اسی طرح ۶۰ رنز پر دو وکٹیں ہمیشہ کمزور آغاز نہیں ہوتیں۔ سرمایہ کارانہ انداز یہی ہے کہ ممکنہ نتیجہ، دستیاب وسائل اور “خالص پوزیشن” کو الگ حساب کیا جائے، نہ کہ صرف شور مچاتے اسکور بورڈ کو دیکھا جائے۔

پچ رپورٹ روزانہ میچ جائزے، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار، پی ایس ایل کوریج اور بیٹنگ باؤلنگ حکمت عملی فراہم کرتی ہے، مگر ذمہ دارانہ انداز میں۔ کسی بھی قانونی کھیل یا پیش گوئی سے پہلے مقامی قوانین، عمر کی شرط اور اپنی مالی حد کو ضرور ملحوظ رکھیں؛ نقصان پورا کرنے کے لیے رقم بڑھانا حکمت عملی نہیں، خطرے میں اضافہ ہے۔

ڈگ آؤٹ میں کپتان اسکور بورڈ، مطلوبہ رن ریٹ اور آخری اوورز کی حکمت عملی دیکھ رہا ہے

قوانین سمجھنے کے بعد اصل فائدہ یہ ہے کہ آپ میچ کو جذبات کے بجائے قابلِ پیمائش اشاروں سے دیکھتے ہیں۔ اس مرحلے پر ہماری تازہ کوریج اور اعداد و شمار آپ کے لیے زیادہ مفید ہو سکتے ہیں۔

تازہ کوریج دیکھیں

اگلی سہ ماہی کے لیے تین پیش گوئیاں کیا ہیں؟

اگلی سہ ماہی میں ٹی ٹوئنٹی کا رجحان مزید ڈیٹا پر مبنی فیلڈنگ، مخصوص باؤلنگ میچ اپس اور وقت کے ضابطے کے سخت نفاذ کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ پیش گوئیاں کسی ایک لیگ کے سرکاری اعلان نہیں بلکہ موجودہ محدود اوورز کے ڈھانچے، کھلاڑیوں کے استعمال اور نشریاتی دباؤ کی بنیاد پر مشروط اندازے ہیں۔ پچ رپورٹ میں ہر پیش گوئی کو میچ کے اعداد و شمار سے جانچا جانا چاہیے، کیونکہ ٹی ٹوئنٹی میں چھوٹی نمونہ مدت اکثر غلط یقین پیدا کرتی ہے۔

پہلی پیش گوئی: فیلڈنگ ڈیٹا مزید فیصلہ کن ہوگا۔ ٹیمیں صرف کیچ فیصد نہیں بلکہ باؤنڈری روکنے کے زاویے، دو رنز کو ایک رن میں بدلنے کی صلاحیت اور دائرے کے اندر ردعمل کا وقت زیادہ استعمال کریں گی۔ ۲۰ اوور کے میچ میں ایک بچایا ہوا چار رنز اکثر ایک اضافی وکٹ جتنا قیمتی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ہدف ۱۸۰ کے قریب ہو۔

دوسری پیش گوئی: باؤلر کے اوور پہلے سے زیادہ مخصوص ہوں گے۔ چار اوور کی حد برقرار رہنے کی صورت میں کپتان پاور پلے، درمیانی اوورز اور ڈیتھ کے لیے الگ باؤلنگ منصوبہ بنائیں گے۔ ایک اسپنر کا اوور ۷، ۹، ۱۱ اور ۱۳ میں استعمال کرنا لازمی بہترین طریقہ نہیں؛ بیٹر کی اسٹرائیک، باؤنڈری کا رخ اور وکٹ کی رفتار فیصلہ بدل سکتے ہیں۔

تیسری پیش گوئی: وقت کا نظم میچ کا پوشیدہ فیصلہ کن عامل بنے گا۔ وائیڈ، نو بال، ریویو اور فیلڈر کی تبدیلی میں ضائع ہونے والے سیکنڈز اوور ریٹ کے جرمانے تک لے جا سکتے ہیں۔ کپتان اگر ہر اوور کے آغاز سے پہلے فیلڈ طے کر دے تو نہ صرف رفتار بہتر ہوتی ہے بلکہ آخری اوور میں غیر ضروری قانونی خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

ان پیش گوئیوں کو پرکھنے کے لیے ہر میچ میں یہ اعداد لکھیں: پاور پلے رن، پاور پلے وکٹ، ڈاٹ بال فیصد، اضافی رنز، ڈیتھ اوور رن ریٹ اور سست اوور ریٹ کا ممکنہ اثر۔ یہ چھ اعداد کسی بھی “ماہر کی حتمی رائے” سے زیادہ شفاف بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اختتامیہ: ۲۰۲۶ میں ٹی ٹوئنٹی قوانین کا خلاصہ

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بنیادی ستون ۲۰ اوور، چار اوور فی باؤلر، پہلے چھ اوور کا پاور پلے، نو بال کے بعد فری ہٹ، محدود فیلڈنگ اور ضرورت پڑنے پر سپر اوور ہیں؛ مگر ۲۰۲۶ میں اصل مہارت ان قوانین کے عملی فرق کو سمجھنے میں ہے۔ آئی سی سی کے عمومی اصول، پی ایس ایل کی مقامی شرائط، امپائر کا کال، ڈی آر ایس، اوور ریٹ اور بارش سے متعلق رعایت کو ایک ہی فہرست میں ملانا درست نہیں۔ میچ دیکھتے وقت پہلے سرکاری ضابطہ پڑھیں، پھر اسکور، وکٹ اور وقت کا حساب کریں؛ یہی طریقہ جذباتی اندازے کو منظم تجزیے میں بدلتا ہے۔

تازہ کرکٹ تجزیے، پی ایس ایل اعداد و شمار اور حکمت عملی کے لیے پچ رپورٹ کو اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں۔

پچ رپورٹ ملاحظہ کریں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کیا ہے؟

جواب: ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ایسا محدود اوورز فارمیٹ ہے جس میں ہر ٹیم زیادہ سے زیادہ ۲۰ اوور کھیلتی ہے۔ ہر اننگز میں دس وکٹیں دستیاب ہوتی ہیں، اور آل آؤٹ ہونے یا ۲۰ اوور مکمل ہونے پر اننگز ختم ہو جاتی ہے۔ عام طور پر سفید گیند استعمال ہوتی ہے اور میچ تقریباً تین سے ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل ہو سکتا ہے، اگر بارش یا طویل ریویو سے تاخیر نہ ہو۔ جیتنے والی ٹیم وہ ہوتی ہے جو زیادہ رنز بنائے یا دوسری اننگز میں ہدف پہلے عبور کر لے۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے کیسے کام کرتا ہے؟

جواب: پہلے چھ اوورز لازمی پاور پلے ہوتے ہیں، جن میں زیادہ سے زیادہ دو فیلڈر تیس گز کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں۔ اس پابندی کا مقصد بیٹر کو ابتدائی اوورز میں باؤنڈری اور تیز رنز کے مواقع دینا ہے۔ اوور سات سے بیس تک عموماً پانچ فیلڈر دائرے سے باہر رکھے جا سکتے ہیں، اگرچہ مقابلے کی موجودہ شرط حتمی ہوتی ہے۔ پاور پلے کا تجزیہ کرتے وقت رنز کے ساتھ گرے ہوئے وکٹ بھی ضرور گنیں۔

سوال: ایک باؤلر ٹی ٹوئنٹی میں کتنے اوور کرا سکتا ہے؟

جواب: ایک باؤلر زیادہ سے زیادہ چار اوور کرا سکتا ہے، اس لیے مکمل ۲۰ اوور کے لیے کم از کم پانچ باؤلنگ آپشنز درکار ہوتے ہیں۔ کپتان چھ یا اس سے زیادہ باؤلرز استعمال کر سکتا ہے، مگر کسی ایک کو چار اوور کی حد سے تجاوز کی اجازت نہیں۔ اگر باؤلر چوٹ کی وجہ سے اوور مکمل نہ کر سکے تو باقی گیندیں دوسرا باؤلر کراتا ہے، لیکن ایک ہی اوور مکمل نہیں کر سکتا۔ بارش سے مختصر میچ میں اوور کی حد مقابلے کی شرط کے مطابق کم بھی ہو سکتی ہے۔

سوال: نو بال اور فری ہٹ میں کیا تعلق ہے؟

جواب: محدود اوورز کے ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں نو بال کے بعد عموماً اگلی قانونی گیند فری ہٹ ہوتی ہے۔ نو بال پر بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، اور وہ گیند اوور کی چھ قانونی گیندوں میں شمار نہیں ہوتی۔ فری ہٹ پر بیٹر کو بولڈ، کیچ، ایل بی ڈبلیو یا اسٹمپڈ کرنے کے معمول کے راستے محدود ہوتے ہیں، مگر رن آؤٹ ممکن رہتا ہے۔ مخصوص ٹورنامنٹ شرط دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ تکنیکی تفصیلات میں فرق آ سکتا ہے۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میچ برابر ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟

جواب: برابر اسکور کی صورت میں عموماً سپر اوور کھیلا جاتا ہے، جس میں ہر ٹیم کو ایک اوور اور تین وکٹوں تک بیٹنگ کا موقع ملتا ہے۔ سپر اوور میں زیادہ رنز بنانے والی ٹیم فاتح بنتی ہے، مگر اگر سپر اوور بھی برابر ہو تو مقابلے کی شرط کے مطابق مزید سپر اوور ہو سکتے ہیں۔ بارش، وقت کی کمی یا ناکافی روشنی کی صورت میں لیگ اور آئی سی سی کے قواعد مختلف طریقہ مقرر کر سکتے ہیں۔ اس لیے صرف ٹی وی گرافک کے بجائے سرکاری کھیلنے کی شرط کو حتمی سمجھیں۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میں ڈی آر ایس کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟

جواب: ڈی آر ایس بیٹنگ یا فیلڈنگ ٹیم کو امپائر کے مخصوص فیصلے کا جائزہ لینے کا موقع دیتا ہے، مگر ریویو کی تعداد اور دستیابی مقابلے کے ضابطے پر منحصر ہوتی ہے۔ کپتان عموماً ایل بی ڈبلیو، کیچ، رن آؤٹ یا نو بال جیسے فیصلوں پر ریویو مانگ سکتا ہے، جبکہ وقت کی حد بھی لاگو ہوتی ہے۔ امپائر کا کال برقرار رہنے کی صورت میں ریویو ضائع ہونے کا طریقہ مقابلے کے موجودہ قانون سے طے ہوتا ہے۔ ریویو لینے سے پہلے ٹیم کو گیند کا زاویہ، بیٹر کا رابطہ اور باقی ریویوز دیکھنے چاہییں۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی کے قوانین کہاں سے تصدیق کیے جا سکتے ہیں؟

جواب: حتمی تصدیق آئی سی سی، متعلقہ کرکٹ بورڈ اور مقابلے کی سرکاری پلیئنگ کنڈیشنز سے کی جانی چاہیے۔ پاکستان سپر لیگ کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی دستاویز، بین الاقوامی مقابلے کے لیے آئی سی سی کی شرائط، اور کسی نشریاتی میچ کے لیے میچ ریفری کا اعلان زیادہ معتبر ذرائع ہیں۔ عام ویب صفحات بنیادی اصول سمجھانے میں مدد دیتے ہیں، مگر سست اوور ریٹ، ڈی آر ایس، سپر اوور اور بارش کے قواعد تازہ مقابلے کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ مالی فیصلہ کرنے سے پہلے مقامی قانونی تقاضے اور اپنی مقررہ حد بھی ضرور جانچیں۔

§

پڑھنے کے لیے شکریہ

پچ رپورٹ · Editorial Archive · 2026

متعلقہ مضامین