کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز: 11 نام، 2026 کی 3 تبدیلیاں
“کیچز میچز جتواتے ہیں” کرکٹ کا مشہور اصول ہے، مگر کیچ کے امکانات صرف ہاتھوں سے نہیں، درست فیلڈنگ پوزیشن سے بھی بنتے ہیں۔ کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھلاڑی کی جگہ، زاویے اور ذمہ داری کی وضاحت...
کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز: 11 نام، 2026 کی 3 تبدیلیاں
“کیچز میچز جتواتے ہیں” کرکٹ کا مشہور اصول ہے، مگر کیچ کے امکانات صرف ہاتھوں سے نہیں، درست فیلڈنگ پوزیشن سے بھی بنتے ہیں۔ کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھلاڑی کی جگہ، زاویے اور ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہیں؛ پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور دیگر کرکٹ مارکیٹوں میں یہ اصطلاحات بنیادی طور پر ایک جیسی ہیں۔ گیارہ اہم مقامات میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین اور لانگ آن یا لانگ آف شامل ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سلپ اور شارٹ لیگ زیادہ اہم ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان سپر لیگ جیسے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ڈیتھ اوورز کے دوران باؤنڈری رائیڈرز کی جگہ بدلتی رہتی ہے۔ میری سفارش ہے کہ ہر پوزیشن کو صرف نام سے نہیں، بلے باز، گیند باز اور اوور کی صورتحال کے ساتھ یاد کریں۔

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ میدان کو وکٹ کیپر کے نقطۂ نظر سے تصور کیا جائے۔ بلے باز کے سامنے سیدھا علاقہ آف سائیڈ کہلاتا ہے، جبکہ ٹانگوں کی سمت لیگ سائیڈ یا آن سائیڈ ہے۔ [پچ رپورٹ] میں میچ کی حکمت عملی پڑھتے وقت یہ فرق اہم رہتا ہے، کیونکہ “کور” اور “مڈ آف” دونوں آف سائیڈ پر ہوتے ہیں، لیکن ان کے زاویے اور فاصلے مختلف ہیں۔ میری کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین میں فیلڈرز کی جگہ سے متعلق پابندیاں فارمیٹ کے لحاظ سے بدل سکتی ہیں؛ پاور پلے کے دوران دائرے سے باہر کھلاڑیوں کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ اس لیے کسی فیلڈر کا نام رٹ لینا کافی نہیں، یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ فیلڈر وکٹ سے کتنے قدم دور ہے، گیند کس رفتار سے آ رہی ہے اور بلے باز کا پسندیدہ شاٹ کیا ہے۔ یہی عملی زاویہ عام فہرست کو حقیقی میچ کی سمجھ میں بدلتا ہے۔
مزید عملی مثالیں دیکھنے کے لیے نیچے دی گئی رہنمائی ملاحظہ کریں۔
غلط فہمی 1: کیا ہر فیلڈنگ پوزیشن کا ایک ہی مقررہ مقام ہوتا ہے؟
نہیں، کسی فیلڈنگ پوزیشن کا نام عمومی علاقہ بتاتا ہے، مقررہ قدموں کی لکیر نہیں؛ وکٹ کیپر، کپتان اور گیند باز صورتحال کے مطابق جگہ بدلتے ہیں۔ سلپ عموماً وکٹ کے قریب رہتی ہے، مگر اسپنر کے خلاف اس کی تعداد تین یا چار بھی ہو سکتی ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں اکثر صرف ایک سلپ رکھی جاتی ہے۔
“سلپ” وکٹ کیپر کے ایک طرف، آف سائیڈ میں، بیٹ کے کنارے سے نکلنے والی گیند پکڑنے کے لیے ہوتی ہے۔ “گلی” سلپ سے زیادہ چوڑی اور عموماً قدرے پیچھے ہوتی ہے، جہاں کٹ یا ایج شدہ گیند پہنچ سکتی ہے۔ “پوائنٹ” بلے باز کے آف سائیڈ کٹ شاٹ کو روکتا ہے، “کور” کور ڈرائیو کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے، اور “مڈ آف” سیدھے ڈرائیو کو کنٹرول کرتا ہے۔ دوسری جانب “مڈ آن” آن سائیڈ کا سیدھا محافظ ہے، “اسکوائر لیگ” ٹانگوں کے عین برابر کا علاقہ دیکھتی ہے، “فائن لیگ” وکٹ کے پیچھے باریک زاویہ سنبھالتی ہے، جبکہ “تھرڈ مین” سلپ کے پیچھے چوڑی باؤنڈری پر تعینات ہوتا ہے۔ کرکٹ بیٹنگ شاٹس کی بنیادی رہنمائی میں شاٹ اور فیلڈر کے زاویے کا تعلق بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
بنیادی پوزیشنز کا مختصر نقشہ
- وکٹ کیپر: وکٹ کے بالکل پیچھے، اسٹمپنگ اور کیچ کی ذمہ داری۔
- سلپ اور گلی: کنارے سے نکلنے والی گیندوں کے لیے قریب ترین کیچنگ علاقے۔
- پوائنٹ اور کور: آف سائیڈ کے کٹ، ڈرائیو اور تیز سنگل روکنے والے مقامات۔
- مڈ آف اور مڈ آن: سیدھے شاٹس اور رن روکنے کے لیے نسبتاً اندرونی پوزیشنز۔
- اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور تھرڈ مین: آن سائیڈ، پیچھے اور زاویہ دار شاٹس کے دفاعی علاقے۔
- لانگ آف، لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ: باؤنڈری کے قریب بڑے شاٹس روکنے کی جگہیں۔
غلط فہمی 2: کیا سلپ صرف تیز گیند باز کے لیے ہوتی ہے؟
جزوی طور پر درست ہے؛ تیز گیند باز کے خلاف سلپ عام طور پر زیادہ نمایاں ہوتی ہے، مگر آف اسپن یا لیگ اسپن کے خلاف بھی بیٹ کا بیرونی کنارہ بن سکتا ہے۔ گیند کی رفتار، پچ کی حرکت، بلے باز کی تکنیک اور میچ کی صورت حال طے کرتی ہے کہ سلپ فائدہ مند ہے یا نہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں جیمز اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور وسیم اکرم جیسے سوئنگ گیند بازوں کے لیے پہلی، دوسری اور تیسری سلپ کا جال تاریخی طور پر مؤثر رہا ہے، کیونکہ نئی گیند عموماً بیرونی کنارے کو متحرک کرتی ہے۔ اس کے برعکس محدود اوورز کے کھیل میں، خاص طور پر پاکستان سپر لیگ کے آخری اوورز میں، کپتان باؤنڈری کے قریب لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ اور تھرڈ مین کو ترجیح دے سکتا ہے۔ یہاں ایک اہم عملی نکتہ ہے: اگر گیند باز آف کٹر یا سست گیند مسلسل باہر کی طرف کر رہا ہو تو سلپ ہٹا کر تھرڈ مین رکھنا ہمیشہ بہتر نہیں؛ کمزور بلے باز کے خلاف کیچ کا امکان ایک باؤنڈری کے خطرے سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین میں فیلڈنگ پابندیوں کا تازہ فریم ورک دیکھنا مفید ہے۔
فیلڈنگ نقشہ پڑھنے میں مدد چاہیے تو یہ مختصر وسیلہ دیکھیں۔

غلط فہمی 3: کیا باؤنڈری فیلڈر ہمیشہ سب سے اہم ہوتا ہے؟
یہ بات واضح طور پر غلط ہے، کیونکہ ایک رن بچانے والا اندرونی فیلڈر کبھی کبھی باؤنڈری رائیڈر سے زیادہ میچ پر اثر ڈالتا ہے۔ پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ یا شارٹ فائن لیگ پر تیز ردعمل والا کھلاڑی سنگل روک کر دباؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ باؤنڈری فیلڈر صرف چوکا یا چھکا روکنے کا انتظار کرتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری فیلڈنگ ضرور اہم ہے، لیکن اس کی قیمت گیند، اوور اور مطلوبہ رنز کے حساب سے بدلتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر لاہور قلندرز کو آخری دو اوورز میں ۲۸ رنز درکار ہوں تو لانگ آف اور لانگ آن کو رسی کے قریب رکھنا منطقی ہے؛ مگر اگر ملتان سلطانز کو ۱۲ گیندوں پر صرف ۱۲ رنز درکار ہوں تو اندرونی دائرے میں ایک تیز فیلڈر ڈبل رن روک کر زیادہ دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “ڈیپ” کا مطلب خودکار طور پر “بہتر” نہیں ہوتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقامی مقابلوں میں استعمال ہونے والے اسکور کارڈز سے بھی واضح ہوتا ہے کہ فیلڈر کی کارکردگی صرف کیچ سے نہیں، رکے ہوئے رنز، تھرو اور دباؤ سے ناپی جاتی ہے۔ کرکٹ شائقین کے لیے پچ رپورٹ میں فیلڈ کی نمی، باؤنڈری کا سائز اور ہوا کی سمت بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ یہ تینوں عوامل فیلڈنگ فیصلے بدل دیتے ہیں۔

حقیقت میں کیا کام کرتا ہے؟
درست فیلڈنگ حکمت عملی وہ ہے جو گیند باز کی منصوبہ بندی، بلے باز کے شاٹ نقشے اور موجودہ رن ریٹ کو ایک ساتھ دیکھتی ہے۔ صرف کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنے کے بجائے کپتان کو ہر گیند سے پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کیچ چاہتا ہے، سنگل روکنا چاہتا ہے یا باؤنڈری بچانا چاہتا ہے۔ [پچ رپورٹ] کے تجزیوں میں یہ فرق خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب ایک ہی میدان پر ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کے فیلڈ نقشے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔
فیلڈ لگانے کا چار مرحلہ طریقہ
۱۔ پہلے گیند باز کی قسم طے کریں: تیز، سوئنگ، سیمر، آف اسپن یا لیگ اسپن۔
۲۔ پھر بلے باز کا غالب شاٹ دیکھیں: کور ڈرائیو، پل، کٹ، فلک یا سیدھا ہٹ۔
۳۔ اوور کی صورتحال نوٹ کریں: نئی گیند، پاور پلے، درمیانی اوور یا ڈیتھ اوور۔
۴۔ ہر دو یا تین گیند کے بعد فیلڈر کی جگہ اور رن کے خطرے کا دوبارہ جائزہ لیں۔
یہاں ایک کم بیان کیا جانے والا نکتہ اہم ہے: فیلڈر کا مضبوط بازو پوزیشن کے انتخاب کو بدل سکتا ہے۔ بابر اعظم کے خلاف کور پر دائیں ہاتھ کا طاقتور تھرو والا فیلڈر سنگل روکنے میں مؤثر ہو سکتا ہے، جبکہ بائیں ہاتھ والے فیلڈر کو تھرو کے زاویے کی وجہ سے قدرے مختلف جگہ رکھنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح وکٹ کیپر کی اونچائی اور حرکت اسپنر کے خلاف اسٹمپنگ کے وقت اثر ڈالتی ہے۔ باؤلنگ لائن اور لینتھ کی حکمت عملی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ فیلڈ پوزیشن گیند کی لائن کے ساتھ کیوں بدلتی ہے۔
اپنی میچ ریڈنگ بہتر بنانے کے لیے پچ رپورٹ کے مزید تجزیے حاصل کریں۔
کن باتوں کو نظرانداز کرنا چاہیے؟
“ہر پوزیشن کا نام ہر ملک میں بالکل ایک جیسا مفہوم رکھتا ہے” جیسی قطعی بات کو نظرانداز کریں، کیونکہ مقامی بول چال میں “اسکوائر” یا “کاؤ کارنر” کی وضاحت مختلف انداز میں کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح صرف ٹیلی ویژن گرافک دیکھ کر فیلڈر کی اصل جگہ کا اندازہ لگانا بھی خطرناک ہے؛ کیمرے کا زاویہ فاصلے اور گہرائی کو بدل کر دکھا سکتا ہے۔
کسی بھی فیلڈ نقشے کا جائزہ لیتے وقت تین چیزیں الگ الگ لکھیں: فیلڈر کا نام، وکٹ سے زاویہ، اور باؤنڈری سے فاصلہ۔ “شارٹ تھرڈ”، “ڈیپ تھرڈ”، “شارٹ فائن لیگ” اور “فائن لیگ” ایک دوسرے کے متبادل نہیں؛ ان کے درمیان چند میٹر کا فرق شاٹ کے نتیجے اور رن بچانے کی صلاحیت تبدیل کر دیتا ہے۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین کھیل کی بنیادی ساخت واضح کرتے ہیں، لیکن کپتان کی حکمت عملی کے لیے بلے باز کی عادت اور میچ کی ضرورت بھی شامل کرنا پڑتی ہے۔ “قوانین کے مطابق درست” فیلڈ ہمیشہ “حکمت عملی کے لحاظ سے بہترین” فیلڈ نہیں ہوتی۔
مختصر فیصلہ یہ ہے کہ پوزیشن کا نام سمت بتاتا ہے، جبکہ فیلڈنگ پلان مقصد بتاتا ہے۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے میچوں میں اصطلاحات مشترک رہتی ہیں، مگر پچ، باؤنڈری، موسم اور کھلاڑی کی مہارت کے مطابق فاصلہ بدلتا ہے۔ پچ رپورٹ، اسکور کارڈ اور اوور کی صورتحال کو ساتھ پڑھنے سے فیلڈنگ پوزیشنز محض الفاظ نہیں رہتیں بلکہ رن روکنے اور وکٹ لینے کا قابلِ استعمال نظام بن جاتی ہیں۔
مزید روزانہ کرکٹ بصیرت کے لیے پچ رپورٹ کو ضرور دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کیا ہیں؟
جواب: اہم کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن شامل ہیں۔ ان کے علاوہ شارٹ لیگ، ڈیپ مڈ وکٹ، کاؤ کارنر اور شارٹ تھرڈ بھی مخصوص حالات میں استعمال ہوتے ہیں۔ پوزیشن کا نام عمومی سمت بتاتا ہے، اس لیے اس کا درست فاصلہ گیند باز، بلے باز اور فارمیٹ کے مطابق بدل سکتا ہے۔
سوال: وکٹ کیپر اور سلپ فیلڈر میں کیا فرق ہے؟
جواب: وکٹ کیپر وکٹ کے عین پیچھے رہتا ہے، جبکہ سلپ فیلڈر وکٹ کے ایک طرف بیرونی کنارے کی گیند پکڑنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ وکٹ کیپر اسٹمپنگ، بائی، وائیڈ اور براہ راست کیچ کی ذمہ داری بھی سنبھالتا ہے۔ سلپ فیلڈر عموماً تیز گیند باز یا اسپنر کے خلاف بیٹ کے کنارے سے آنے والی گیند پر توجہ دیتا ہے، اس لیے اس کی جگہ وکٹ کیپر سے زاویہ دار اور قدرے آگے ہوتی ہے۔
سوال: ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کیسے مختلف ہوتی ہیں؟
جواب: ٹیسٹ میں سلپ، گلی اور شارٹ لیگ جیسے قریب کے کیچنگ مقامات زیادہ دیر تک رکھے جا سکتے ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری فیلڈرز کو ترجیح ملتی ہے۔ پاور پلے، درمیانی اوورز اور ڈیتھ اوورز میں فیلڈ کی اجازتیں بھی بدلتی ہیں۔ ٹیسٹ کی نئی گیند سوئنگ کر رہی ہو تو تین سلپ مؤثر ہو سکتی ہیں، مگر ٹی ٹوئنٹی کے آخری اوور میں لانگ آف، لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ زیادہ ضروری ہو سکتے ہیں۔
سوال: اگر فیلڈر غلط پوزیشن پر ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: اگلی گیند سے پہلے کپتان یا وکٹ کیپر کو فیلڈر کا زاویہ، فاصلے اور متوقع شاٹ کے مطابق فوری اصلاح کرنی چاہیے۔ پہلے یہ طے کریں کہ مسئلہ سنگل کا ہے یا باؤنڈری کا، پھر فیلڈر کو چند قدم اندر یا باہر منتقل کریں۔ اگر گیند باز کی لائن بدل گئی ہے تو پرانا نقشہ برقرار نہ رکھیں؛ ہر دو یا تین گیند کے بعد فیلڈ کا جائزہ لینا خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی میں ضروری ہے۔
سوال: فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کے لیے کیا مہنگی تربیت ضروری ہے؟
جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کے لیے مہنگی تربیت ضروری نہیں؛ میدان کا خاکہ، میچ ویڈیو اور باقاعدہ مشق کافی ہو سکتی ہے۔ پہلے وکٹ کیپر کو مرکز بنا کر آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ الگ کریں، پھر ۱۱ بنیادی مقامات نشان زد کریں۔ اس کے بعد مختلف شاٹس کے مطابق فیلڈ بدلنے کی مشق کریں، مثلاً کور ڈرائیو کے لیے کور اور مڈ آف، یا پل شاٹ کے لیے ڈیپ مڈ وکٹ اور کاؤ کارنر۔
سوال: “شارٹ فائن لیگ” اور “فائن لیگ” میں کیا فرق ہے؟
جواب: شارٹ فائن لیگ وکٹ کے نسبتاً قریب اندرونی دائرے میں ہوتی ہے، جبکہ فائن لیگ عموماً پیچھے اور باؤنڈری کے قریب تعینات کی جاتی ہے۔ شارٹ فائن لیگ کا مقصد فلک، ٹک اور نرم کلائی والے شاٹ پر سنگل روکنا یا کیچ لینا ہے۔ فائن لیگ کا کام وکٹ کیپر کے پیچھے باریک زاویے سے آنے والی گیند کو باؤنڈری تک پہنچنے سے روکنا ہے، اس لیے دونوں پوزیشنز کا نام ملتا جلتا مگر مقصد مختلف ہے۔
سوال: کیا فیلڈنگ پوزیشنز کے نام ہر ملک میں مختلف ہوتے ہیں؟
جواب: بنیادی نام دنیا بھر میں تقریباً ایک جیسے ہیں، لیکن مقامی زبان اور تبصرے میں متبادل اصطلاحات استعمال ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور میریلیبون کرکٹ کلب کی روایتی اصطلاحات میں سلپ، کور، پوائنٹ اور مڈ وکٹ جیسے نام مستقل نظر آتے ہیں۔ البتہ “کاؤ کارنر”، “شارٹ تھرڈ” یا “ڈیپ اسکوائر” کی عملی حدیں میدان کے سائز اور کپتان کے فیلڈ پلان کے مطابق بدل سکتی ہیں۔
پچ رپورٹ کرکٹ میچ کے جائزوں، کھلاڑیوں کے اعدادوشمار، پاکستان سپر لیگ کوریج، بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی پر روزانہ بصیرت فراہم کرتی ہے۔
پڑھنے کے لیے شکریہ
پچ رپورٹ · Editorial Archive · 2026